اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی ویب سائٹ ’’والا‘‘ کے مصنف اور سیاسی تجزیہ کار آوی سولومون نے انتخابی اتحادوں کی تشکیل کی مدت ختم ہونے کے بعد اسرائیلی سیاسی صورتحال پر اپنے تجزیے میں دونوں بڑے سیاسی کیمپوں کے اندر بڑھتی ہوئی کشمکش کی نشاندہی کی ہے۔
سولومون نے انتخابی عمل کو ’’انتخابات کی ٹرین‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دونوں سیاسی کیمپ اس ٹرین میں سوار ہوچکے ہیں، تاہم جماعتوں اور رہنماؤں کے درمیان نشستوں اور سیاسی پوزیشنوں پر اختلافات ان کی انتخابی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مخالف کیمپ کے حوالے سے سولومون کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیا سیاسی اتحاد بظاہر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، تاہم آویگدور لیبرمین اور گادی آیزنکوٹ کے درمیان اختلافات اور آیزنکوٹ کی جانب سے جمہوری سوچ رکھنے والے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوششوں نے مخالف دھڑے کو ایک مضبوط اور متحد سیاسی بلاک بننے سے روک رکھا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق موجودہ صورتحال میں یہ کیمپ حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے سے دور ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کا کیمپ بھی مکمل طور پر متحد نظر نہیں آتا۔ اس کیمپ کو درپیش اہم مسائل میں عوفر وینٹر کی سیاسی موجودگی اور اس کے نتیجے میں دائیں بازو کے ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ شامل ہے۔
سولومون نے لیکود پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ وینٹر کی موجودگی دائیں بازو کے ووٹوں کا ایک حصہ ضائع کرسکتی ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں ان کے خلاف براہِ راست سیاسی مہم چلائے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق آنے والے انتخابات کے نتائج اور عوامی حمایت کے رجحانات ہی یہ طے کریں گے کہ دائیں بازو کا کیمپ وینٹر کو کمزور کرنے یا انتخابی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کرتا ہے یا ان کی موجودگی بالآخر انتخابی فائدے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
سولومون کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل ایسے سیاسی کیمپ کا سامنا کر رہے ہیں جسے وہ اب تک مکمل طور پر متحد نہیں کر سکے، جبکہ نئے سیاسی چہروں کو شامل کرکے اپنے ووٹر بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ چھوٹی جماعتوں میں ووٹوں کی تقسیم اور انتخابی ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ نیتن یاہو کی انتخابی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
سولومون کے مطابق انتخابات میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نیتن یاہو اور ان کے مخالفین کس سیاسی اتحاد کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں، بلکہ فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ آخرکار کون سا کیمپ حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرتا ہے اور یروشلم کی بلفور اسٹریٹ میں واقع وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
یوں دونوں سیاسی کیمپوں کے اندرونی اختلافات، چھوٹی جماعتوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم اور انتخابی نتائج حکومت سازی کی دوڑ میں نیتن یاہو اور ان کے مخالفین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ